Posts

Showing posts with the label Motivations

My Resume July 2024

 Here is  the latest resume of me July 2024 Click To Open Resume

All in ONE Test Fie

 Basic Test File Click To Access File

Online Computer Course Test # 1

  Computer Basic Course Online Test # 1 Clink to Join Test

Hammari Sochin (ہماری سوچیں!!!!)

  * ہماری سوچیں!!! * روزمرہ زندگی میں سوچ کا آنا یا خود حالات کے مطابق کسی سوچ میں بیٹھے بیٹھے اچانک کھو جانا ایک عام انسان کا معمول ہے۔ بس سوچیں ہمارے حالات کے مطابق ہم پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ حالات اچھے ہیں تو سوچیں بھی اچھی آئیں گی اور ان سوچوں کو سوچ کر بھی خوشی ملے گی۔ اور اگر حالات کچھ خراب ہیں یا انسان کے حالات اچھے نہیں چل رہے تو پھر انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ اچھی سوچیں سوچے، ایسا ہر انسان کرتا ہے سوچنے پر کسی کی پابندی نہیں ہے۔ ڈپریشن کبھی بھی خود سے نہیں آتا۔ آپ کی سوچ کا زاویہ اسے آپ تک رسائی دیتا ہے۔ ہمارے ذہن میں بیک وقت مثبت اور منفی خیالات بسیرا کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایک فطری عمل ہے۔ اس سطح پر ہم منفی خیالات پر توجہ زیادہ دیں تو منفی اثرات اور اگر مثبت خیالات پر توجہ دیں تو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ سوچ کی ایک جنگ ہے۔ کوئی شک نہیں کہ بیرونی ماحول، لوگ اور لوگوں کا رویہ یا لہجہ اس سب میں ایک کردار ادا کرتا ہے لیکن سب سے اہم کردار ہماری سوچ کا ہے کہ ہم بیرونی ماحول یا لوگوں کے رویوں کا خود پر کتنا اثر لیتے ہیں۔ ایک بات یاد رکھیں کہ آپ کا بہترین دوست...

✍️ "اللہ جن سے راضی ہوا"

 "اللہ جن سے راضی ہوا" حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو بھیجا کہ کوئی اچھا سا گھوڑا منڈی سے خرید لاؤ ـ غلام ایک بہترین گھوڑا 300 درہم میں خرید لایا اور ادئیگی کے لئے اس کے مالک کو بھی ساتھ لے آیا ـ حضرت جریرؓ نے جب گھوڑا دیکھا تو وہ گھوڑا تین سو درہم سے زیادہ قیمت کا معلوم ہواـ  آپ نے مالک سے کہا کہ اس کی قیمت زیادہ کرو تمہارا گھوڑا اعلی نسل کا ہے، اس نے کہا کہ چار سو دے دیجئے،، فرمایا یہ بھی کم ہیں کہنے لگا پانچ سو دے دیجئے، فرمانے لگے شاید تمہیں گھوڑوں کی نسل کی شد بد نہیں یا پھر تم بہت مجبور ہو اور میں تمہیں تمہاری مجبوری اور لاعلمی کا نقصان نہیں پہنچنے دونگا، اس کے بعد اس کو 800 درہم دے کر گھوڑا خرید لیا۔ گھوڑا بیچنے والا دعائیں دیتا ہوا رخصت ہو گیا تو غلام نے تعجب سے کہا کہ اچھا بھلا اپنی مرضی سے تو 300 میں بیچ رہا تھا، آپ نے خواہ مخواہ سے اتنے پیسے دے دیئے !! حضرت جریر بن عبداللہؓ نے فرمایا کہ خواہ مخواہ میں نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ سے کی گئ بیعت کی وفا میں،، مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے بیعت لی تھی کہ میں اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی کرونگاـ اس لئے مجھے اپنے ب...

⛷️⛷️" تربیت کیسے ممکن ہے؟"

  " تربیت کیسے ممکن ہے؟ " حضرت واصف علی واصف صاحب فرماتے ہیں " وہ دن گئے جب بچوں کو سکولوں میں "گلستان" اور "بوستان" کی کہانیاں پڑھایا کرتے تھے اور نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ بااخلاق معاشرہ پیدا ہوتا تھا اور آج جو کچھ ہو رہا ہے،ویڈیو کی کہانیوں کا اثر ہے۔ جنسی تشدد اور دہشت گردی پہلے فلموں میں دکھائی جاتی ہے اور پھر سماج میں اسے دیکھا جاتا ہے۔ جب ذہن پختہ ہو جائے تو اصلاح کا امکان کم ہو جاتا ہے"۔ آج آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں کیا ہو رہا ہے؟   قلم کار کیا لکھ رہے ہیں؟ سکرین پر کس طرح کے ناول یا کہانیوں کو ڈرامے کی صورت پیش کیا جا رہا ہے؟   سکول میں چھوٹی عمر کے بچوں کو ہی ماڈرن رقص میں لگا دیا گیا ہے جو بڑھتی عمر اور کلاس کے ساتھ ساتھ مذید جدت اختیار کر لیتا ہے اور کالج میں میوزک کنسرٹ پھر یونیورسٹی کے اینول ڈنر تک یہی سکول میں ہونے والا ماڈرن رقص مجرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یونیورسٹی میں جو کچھ میوزک کنسرٹ اور اینول ڈنر کے نام پر اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کر رہے ہیں اسے دیکھ کر آپ کو سٹیج ڈرامے اور مجرے بھی کم لگیں...

🔦 تم کیا جانو عزت تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے عطا کردے

  تم کیا جانو عزت تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے عطا کردے اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ایک بار لاہور میں قذافی سٹیڈیم میں ایک بھارتی گلوکار نے کنسرٹ کیا۔رقص و موسیقی کی محفل میں پاکستان کے نامور شخصیات کو مدعو کیا گیا۔ مہمانوں کی تواضع ہر قسم کے مشروبات سے کی گئی جبکہ پاکستانی فلمی اداکاراوُں نے رقص کر کے بھارتی گلوکار کا ساتھ دیا اور دیکھنے والوں سے خوب داد وصول کی۔اس تقریب میں پاکستان کے نامی گرامی سیاستدان، اداکار، دانشور اور بڑی بڑی شخصیات مدعو سکیورٹی کا سخت انتظام تھا، مشہور فلسفی اشفاق احمد صاحب کو بھی دعوت نامی بھیجا گیا۔ اشفاق صاحب جب قذافی سٹیڈیم پہنچے تو انہیں احساس ہوا کہ وہ دعوت نامہ ساتھ لانا بھول گئے ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی کے عملہ سے کہا کہ وہ دعوت نامہ لانا بھول گئے ہیں انہیں اندر آنے دیا جائے۔ سکیورٹی والوں نے انہیں اندر آنے نہ دیا۔ انہوں نے بہت کہا کہ وہ ملک کی مشہور شخصیت ہین مگر سکیورٹی والوں نے نہ صرف انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا بلکہ دھکے مار کر وہاں سے ہٹا دیا اور کہا کہ بابا جی یہاں ہر کوئی مشہور بنا پھرتا ہے۔ جاوُ ہمیں اپنا کام کرنے دو۔ تنگ نہ کرو۔ بقول...

👨‍🦽 اور پھر وقت بدل گیا

  اور پھر وقت بدل گیا انسان اس دنیا میں کچھ کام اپنی خواہشات کے مطابق سرانجام دیتا ہے اور کچھ کام اس انسان کی ضروریات میں شامل ہوتے ہیں جن کے بغیر انسان کی زندگی کا گزارہ ممکن نہیں. لیکن کچھ کام انسان اپنے ضمیر کو مطمن کرنے کے لیے بھی کرتا ہے جس کا مقصد کسی کا فائدہ کرکے خوشی حاصل کرنا ہوتا ہے. ایسا ہی ایک کام میں نے اپنی زندگی کے ہر دور میں جاری رکھا، میں ایک استاد بن گیا. میرا شوق بن گیا کہ میں دوسروں کو کچھ سیکھاؤ کسی کا فائدہ کروں کسی کے دل و دماغ میں زندہ رہوں . اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے میں نے اپنے آپ پر محنت کرنا شروع کر دی اور مسلسل اپنی تعلیمی اسناد اور علم میں منزلیں طے کرتا گیا. کسی بھی کام میں مہارت حاصل کرنے کے لیے استاد کی نظر شفقت بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے. میری تعلیم و تربیت میں بھی میرے استاد محترم جناب عدنان عالم صاحب کا بہت بڑا اہم کردار ہے جنہوں نے مختلف جگہوں پر میری رہنمائی فرمائی اور مجھے مذید بہتر ہونے میں میری مدد فرمائی . کسی بھی انسان کی زندگی ایک اچھے اور شفیق استاد کے بغیر نامکمل ہے، مجھے آج بھی یاد ہے کالج کے بعد میں ایک دن اپنے کالج کسی کام سے...

🦁 شیر جنگل کا بادشاہ کیوں ہے؟

  شیر جنگل کا بادشاہ کیوں ہے؟ جنگل میں سب سے بڑا جانورلمبائی میں  تو ضرافہ ہے اور شاید  جسامت میں ہاتھی بڑا جانور ہے - سب سے پھرتیلا چیتا ہوتا ہے اور سب سے ہوشیار لومڑ ۰۰۰ وغیرہ وغیرہ -  جنگل میں حکومت کرنے کے لیئے یہ خوبیاں تو چائیے ہوتیں ہیں ناں۔ مگر ان سب میں کوئی بھی جنگل کا بادشاہ نہیں ہوتا حالانکہ ان جانوروں میں بہت ساری خوبیاں ہوتی ہیں - جنگل کا بادشاہ تو شیر ہوتا ہے مگر اس میں یہ تمام صفات نہیں ہوتیں ، نہ وہ اونچا ہوتا ہے نہ وہ بھاری بھرکم ہوتا ہے اور نہ ہی وہ چالاک یا ہوشیار ہوتا ہے مگر پھر بھی وہ جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے ۔ شیر میں ایک ادا ہے جو کسی اور میں نہیں ، اس میں ایک عادت ہے جو کسی میں نہیں ہے، اس میں ایک خوبی ہے جو کسی میں نہیں ہے ۔ شیر کا اعتماد اور یقین بہت غضب کا ہے جو اور کسی میں نہیں۔ شیر سے کسی نے پوچھا کہ تو بادشاہ کیوں ہے؟ تیرے میں تو ایسی کوئی کوالٹی نہیں۔ تو شیر کیا کہتا ہے کہ “مجھے لگتا ہے میں بادشاہ ہوں تو اس لیئے میں بادشاہ ہوں ”- یہ ہے اس کا اعتماد, یہ ہے اس کی کوالٹی  ، یہ ہے اس کا یقین ۔ انسان کا یقین بھی ایسا ہی...

⏳ نوجوان نسل اور بوڑھے والدین

  نوجوان نسل اور بوڑھے والدین" " دادا ابو ایک قصہ سنایا کرتے تھے۔۔ ایک بہو اپنے سسر سے تنگ تھی، روز جھگڑے ہوتے تھے۔ خاوند جیسے ہی گھر میں قدم رکھتا تو بیوی شروع ہو جاتی تھی کہ تم اپنے ابا کو گھر سے نکال دو مجھ سے ان کے کام نہیں ہوتے۔ یہ بوڑھا تھوکتا ہے، سارا دن کھانسی کرتا ہے۔ مجھے گھن آتی ہے۔ ایک دن خاوند گھر آیا تو اس کی بیوی گھر چھوڑ کر جا چکی تھی اور یہ پیغام چھوڑ گئی تھی کہ "جب اپنے ابا کو گھر سے نکال دو تو سندیسہ بھیج دینا میں خود ہی واپس آ جاؤں گی"۔ بیٹے نے مجبوراً اپنے ابا کو کندھوں پر اٹھایا اور جنگل کی طرف لے گیا۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ بیٹے نے ایک درخت کی چھاؤں میں اپنے ابا کو بٹھا کر معافی مانگی اور جانے کیلئے کھڑا ہوا۔ باپ ایک مرتبہ رویا اور پھر مسکرانے لگا اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر بیٹھ گیا۔۔ بیٹے نے پاس بیٹھ کر رونے اور پھر مسکرانے کی وجہ دریافت کی تو جواب ملا۔ " بیٹے۔۔ میں نے بھی اپنے باپ یعنی تمہارے دادا کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ وہ وقت یاد آ گیا تو آنکھوں سے انسو نکل آئے مگر میں اپنے باپ کو دھوپ میں بٹھا کر واپس چلا گیا تھا جب ک...

🖨️ بیٹی کی محبت

  بیٹی کی محبت   بیٹیوں سے محبت کرنے والے "باپ" اس معاشرے میں یقیناً پائے جاتے ہیں بلکہ بہت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ خود کئی بیٹیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں اور یہ سب ہم اپنے ارد گرد بھی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔۔۔۔ کچھ دن پہلے ایک جاننے والے سے ملاقات ہوئی جو بیرونِ ملک کئی سالوں سے ایک اچھی جاب کر رہا تھا۔ شادی ہوئی اور شادی کے بعد بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ سارے کام کاج چھوڑ کر بیٹی کا دیدار کرنے باپ اگلے ہی دن پاکستان پہنچ گیا۔ ابھی معلوم ہوا کہ اب مستقل طور پر پاکستان میں رہائش پذیر ہے اور اپنا ایک ہوٹل کھول لیا ہے۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا " جب سے بیٹی کی پیدائش ہوئی میرا وہاں دل ہی نہیں لگتا تھا۔ ہر وقت بیٹی کی یاد آتی تھی، بیوی اور بیٹی کو وہاں بلا کر میں والدین کو بھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا لہذا خود ہی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان واپس آ گیا۔ شروع میں تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب میرا کام بہترین چل رہا ہے۔ الحمدللہ 🌹 شام کو گھر واپس جاتا ہوں تو بیٹی کو سامنے دیکھ کر دن بھر کی تھکان دور ہو جاتی ہے" ۔ مطلب صرف بیٹی سے محبت ہے، بیٹی کی ماں سے...

🖨️ معجزہ، لفظ اللہ لکھا ہونا

  معجزہ    ، لفظ اللہ لکھا ہونا   کل چکن خریدنے ایک مرغی والے کی دوکان پر گیا تو عجب منظر دیکھا، لوگوں کا ایک ہجوم لگا ہوا تھا اور کسی چیز کی نیلامی ہورہی تھی، ایک آواز آئی’’پانچ سو‘‘۔۔۔دوسری آئی ’’ایک ہزار‘‘۔۔۔میں نے قریب کھڑے ایک صاحب سے پوچھا کہ کس چیز کی بولی لگ رہی ہے؟ اس نے نہایت عقیدت سے جواب دیا’’ معجزے کی‘‘۔۔۔میں بوکھلا گیا، تفصیل پوچھی تو پتا چلا کہ مرغی والے کے پاس ایک ایسی مرغی ہے جس پر قدرتی طور پر لفظ’’اللہ‘‘ لکھا ہوا ہے، سب لوگ اسے خریدنا چاہ رہے ہیں اور اسی کی بولی لگ رہی ہے۔‘‘ میرا اشتیاق بڑھا، مرغی والا اپناکام چھوڑ کر فخر سے ایک طرف کھڑا تھا اور بڑھتی ہوئی بولی پر نہال نظر آرہا تھا۔ میں نے بمشکل ہجوم میں جگہ بنائی اور آخر اس مقدس مرغی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ ایک درمیانے سائز کی دیسی مرغی تھی جس کے گلے میں مرغی والے نے موتیئے کے ہار ڈال کر اسے الگ سے رکھا ہوا تھا۔ میرے وہاں پہنچتے پہنچے مرغی کی بولی پانچ ہزار تک پہنچ چکی تھی . میں نے غور سے مرغی کا جائزہ لیا لیکن مجھے کہیں بھی اللہ لکھا ہوا نظر نہیں آیا۔ مرغی والے سے پوچھا تو اسے غصہ آگیا...

🖨️ ایک پاکستانی لڑکی کی کارگزاری اپنی عرب سہیلی کے بارے

  ایک پاکستانی لڑکی کی کارگزاری   اپنی عرب سہیلی کے بارے اسکا دو ماہ کا بچہ تھا وہ پیمپر تبدیل کر وانے واش روم گئیں ۔مدد کے لئے میں بھی ساتھ ہو لی ۔بچے کو دھلانے کے بعد انھوں نے اسے مکمل وضو کروایا ۔میرے لئے یہ ایک نیا عمل تھا ۔وضو عموماً بڑے ہی کرتے ہیں اتنے چھوٹے بچوں کو وضو کروانے   کا تصور نہیں ۔ اس کے بہت سے کام الگ سے تھے۔ دو سالہ بیٹی کو کھانا کھلانے لگیں ہر نوالہ منہ میں ڈال کر کہتیں   الحمدللہ ،بچی بھی توتلی زبان میں دہراتی تب دوسرا نوالہ کھلاتیں۔ وہ مکمل یکسوئی سے بچوں میں مگن تھیں ۔اسی یکسوئی سے میں ان ماں بچوں کا مشاہدہ کیے جا رہی تھی۔ وہ یمن کی رہنے والی تھیں کالج میں ساتھ ہی عربی پڑھاتی تھیں یہیں دوستی ہو گئی۔خلوص اور محبت کے ساتھ اس دوستی کی   وجہ عربی زبان   تھی ۔انھیں ٹوٹی پھوٹی اردو اور انگریزی   آتی تھی۔دیار غیر میں ہم زبان کا مل جانا ایک نعمت ہوتی ہے۔وہ جیسے ہم زبان کی ترسی ہوئی تھیں۔ کچھ ہی دنوں بعد میری دعوت پر گھر چلی آئیں ان کا ہر ہر انداز الگ سا تھا اور میں سیکھنے کی شائق۔   بچوں پر خاص توجہ سے عرب ماؤں کی فضیلت ...

🖨️ کویت کی عدالت

  کویت کی عدالت ایک بوڑھاآدمی عدالت میں داخل ہواتاکہ اپنی شکایت(مقدمہ)قاضی کےسامنےپیش کرے - قاضی نےپوچھاآپ کامقدمہ کس کےخلاف ہے؟ اس نےکہااپنےبیٹےکےخلاف۔قاضی حیران ہوااورپوچھاکیاشکایت ہے،بوڑھے نےکہا،میں اپنےبیٹے سے اس کی استطاعت کےمطابق ماہانہ خرچہ مانگ رہاہوں،قاضی نےکہا یہ توآپ کااپنےبیٹےپرایساحق ہےکہ جس کےدلائل سننے کی ضرورت ہی نہیں ہے بوڑھےنےکہا قاضی صاحب ! اس کےباوجود کہ میں مالدارہوں اورپیسوں کامحتاج نہیں ہوں،لیکن میں چاہتاہوں کہ اپنےبیٹے سےماہانہ خرچہ وصول کرتارہوں - قاضی حیرت میں پڑگیااوراس سےاس کےبیٹےکانام اورپتہ لیکراسے عدالت میں پیش ہونے کاحکم جاری کیا۔بیٹاعدالت میں حاضرہواتوقاضی نےاس سےپوچھاکیایہ آپ کےوالدہیں؟بیٹےنےکہاجی ہاں یہ میرےوالدہیں - قاضی نےکہاانہوں نےآپ کےخلاف مقدمہ دائرکیاہےکہ آپ ان کوماہانہ خرچہ اداکرتےرہیں چاہےکتناہی معمولی کیوں نہ ہو - بیٹےنےحیرت سے کہا،وہ مجھ سےخرچہ کیوں مانگ رہےہیں جبکہ وہ خودبہت مالدارہیں اورانہیں میری مددکی ضرورت ہی نہیں ہے - قاضی نےکہایہ آپ کےوالد کاتقاضاہے اوروہ اپنےتقاضے میں آزاد اورحق بجانب ہیں۔ بوڑھے نےکہا قاضی صاحب!ا...

🖨️ اپنی آنکھیں کھول کر دیکھیے،

  اپنی آنکھیں کھول کر دیکھیے،   یہ دنیا، یہ کائنات یہاں آپ کے کرنے کو بہت کچھ ہے۔ کتنی منزلیں ہیں جو آپ جیسے مسافروں کی منتظر ہیں۔ کئی راستے آپ کے قدموں کی خاک چھاننے کو بے قرار ہیں۔ کئی کامیابیاں آپ جیسے شخص کی راہ تک رہی ہیں۔ کئی خواب آپ کی آنکھوں میں بس کر شرمندہ تعبیر ہونا چاہتے ہیں۔ کئی مقاصد آپ جیسے کسی شخص کیلئے اپنی بانہوں کو کھول کر بیٹھے ہیں۔ کئی راز آپ جیسے کھوجیوں کے انتظار میں ابھی تک راز ہی ہیں۔ بہت سارے ایٹم، کیمیکل، سٹرکچر، فلسفے، ادویات اور تحقیقات آپ جیسے کسی ڈاکٹر، انجینئر، کیمسٹ اور سائنسدانوں کے ہاتھوں دریافت ہونا چاہتے ہیں۔ بہت سی غزلیں آپ جیسے کسی شاعر کی امانت ہیں اور کئی ناول، افسانے، کہانیاں اور کالم آپ کے قلم کی نوک سے قرطاس پر آنے کو دن رات انتظار کی سولی پر لٹک کر مایوس رہ جاتے ہیں کیوں کہ آپ اپنے سفر، منزل، خواب اور مقاصد کو چھوڑ کر ابھی تک "ٹائم پاس" کی آڑ میں محبت و عشق کے کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔ انتخاب آپ کا اپنا ہے۔۔ سلامت رہیں. علم حاصل کریں اس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی .   ✍ ️_ محمد طاہر فاروق

🖨️ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے

  ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے میں اسے نماز پڑھتا دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ پچیس چھبیس سال کا خوبصورت نوجوان قتل کے مقدمے میں دو دن پہلے ہی یہاں لایا گیا تھا جہاں سے چند دن بعد عدالتی کاروائی کے بعد اسے جیل منتقل کیا جانا تھا۔۔۔ اس کے خلاف کیس کافی مضبوط تھا اس لیے گمان غالب تھا کہ ایک دو پیشیوں کے بعد ہی اسے سزائے موت سنا دی جائے گی۔۔۔ میں ایک پولیس والا ہوں، اور پہلے دن سے ہی میرا رویہ اور لہجہ اس کے ساتھ کافی سخت رہا تھا۔۔۔لیکن اس کے لبوں پر ہمیشہ ایک دل موہ لینے والی مسکراہٹ ہوتی تھی اور ہمیشہ وہ مجھے بڑا سمجھتے ہوئے ادب سے اور نرم لہجے میں بات کرتا تھا۔۔۔ اور مجھ جیسا سخت انسان بھی دو دن میں ہی اس کے اچھے اخلاق کے سامنے ہار گیا تھا۔۔۔ اب وہ سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگ رہا تھا۔۔۔ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔ وہ اس طرح خشوع و خضوع سے دعا مانگ رہا تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ جس سے مانگ رہا ہے وہ اس کے بالکل سامنے بیٹھا ہو۔۔۔ دعا کے بعد اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس کے لبوں پر پھر وہی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔ وہ اٹھ کر میرے پاس آیا اور ہمیشہ کی ط...