Posts

🔮 یہ گورنمنٹ کا کام ہے، میرا ذاتی کام نہیں ہے

  یہ گورنمنٹ کا کام ہے، میرا ذاتی کام نہیں ہے سرکاری ملازم ہوتے ہوئے اکثر ہم نے یہ جملے سنتے ہوں گے کہ ہم پر احسان نہ کریں یہ "گورنمنٹ کا کام ہے، میرا ذاتی کام نہیں ہے ". 🤔🤔🤔🤔   اگر یہ بات سچ ہے تو پھر آپ کو کیا مسئلہ ہے کونسی چیز آپکو تنگ کرتی ہے جو کہ آپ کسی بھی ایسے انسان کو تنگ کرتے ہیں جو کہ آپ کے زیر سایہ کام کرتے ہیں . 🙊🙊🙊 صرف اس لیے کہ افسران کی نظرمیں اپنی اہمیت بنا سکیں، اس گھٹیا سوچ کے ہوتے ہوئے تم جیسے لوگ کبھی بھی اپنی عزت نہیں بنا سکتے، عزت اور ذلت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ہے. اللہ تعالیٰ جسے چاہے عزت سے نوازے، اکثر ہمیں پیش آنے والی پریشانیوں کا باعث اس ہی طرح کے کم ضرف انسان ہوتے ہیں جو کہ اپنی اہمیت یا یہ کہہ لیں اپنے نمبر بنانے کے لیے کسی بھی دوسرے کو ذلیل کر سکتے ہیں . 🐒🐒🐒 اگر تولیہ پھیرنے کا اتنا ہی شوق رکھتے ہیں تو پھر خود وہ کام سرانجام دیا کریں اور اپنے نمبر بنا لیا کریں. کیونکہ کسی کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانا آسان ہے اس لیے کسی کو اپنے لیے استعمال کرنا تولیہ بازوں کی مجبوری ہوتی ہے . 🐣🐣🐣 سرکاری ملازمین پر فرعونیت اور حکم ...

🚨 زندگی کے 30 منٹ

  زندگی کے 30 منٹ والدین کے اکلوتے بیٹے اور دو بہنوں کے اکلوتے پڑھے لکھے بھائی جنید کا اپنے محلے کے ایک نوجوان سے جھگڑا ہو گیا. ہاتھا پائی ہوئی اور کچھ گالیوں کا تبادلہ بھی ہوا.جنید گھر آیا اور اپنے کمرے میں بیٹھ گیا. اس نے اپنے دشمن کو مارنے کا فیصلہ کر لیا اور الماری سے پستول نکال لیا. اچانک اسے اپنے ایک دوست کی نصیحت یاد آ گئی. دوست نے اسے ایسا کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے 30 منٹ کے لئے واردات کے بعد کی صورتحال تصوراتی طور پر دیکھنے کا کہا تھا . جنید نے تصور میں اپنے دشمن کے سر میں تین گولیاں فائر کر کے اسے ابدی نیند سلا دیا. ایک گھنٹے بعد وہ گرفتار ہو گیا. گرفتاری کے وقت اس کے والدین اور دو بہنیں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں. اس کی ماں بے ہوش ہو گئی. مقدمہ شروع ہوا تو گھر خالی ہونا شروع ہو گیا. ایک کے بعد ایک چیز بکتی گئی. بہنوں کے پاس تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا اور ان کے ڈاکٹر بننے کے خواب مقدمے کی فائل میں خرچ ہو گئے.بہنوں کے رشتے آنا بند ہو گئے اور ان کے سروں میں چاندی اترنے لگی. جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہر ہفتے والدین اور بہنیں ملاقات کے لئے جاتے. بہنوں کا ایک ہی س...

🔥 تم اپنا ٪100 کام پر دو تنخواہ نہیں لیتے

  تم اپنا ٪100 کام پر دو تنخواہ نہیں لیتے ایسے کئی جملے آپ نے اکثر و بیشتر سُنے ہوں گے. آج میں آپ کو کچھ تلخ باتوں سے آگاہ کرنے جا رہا ہوں. شاید کہ آپ نے ان میں سے کچھ باتیں پہلے سنی ہی ہوں . 🤔🤔🤔 ایک سرکاری ملازم ہونے کی حیثیت سے ہم کبھی بھی اپنی تنخواہ کے مطابق اپنے کام سر انجام نہیں دے سکے، سارا سارا دن ذلالت برداشت کرنے کے بعد اگر کو بااثر سرکاری ملازم آپ کی توہین کرے تو یقیناً آپ کو برا لگے گا. جو انسان جس جگہ پر ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے، وہاں پر اس کو کافی سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ مسائل اس کے کام سے متعلق نہیں ہوتے یہ وہ مسائل ہیں جو ایسے بااثر سرکاری ملازمین کی طرف سے ہوتے ہیں جن کو وقتی طور پر آپ پر انچارج بنا کر لگایا جاتا ہے جو ہوتا تو سرکاری ملازم ہے لیکن اپنے آپ کو چوہدری صاحب سمجھنے لگ جاتا ہے . 🕶 ️ ✌ ️ ✌ ️ سرکاری کام پر میں نے کافی سروے کیا، کیا کوئی کام ایسا جو ممکن نہ ہو کرنا، یا جس کے کرنے میں کوئی انسانی مہارت کے باوجود کوئی مسئلہ ہو تو ایسے کم ہی ایشو سامنے آئے ہیں، 🥷 زیادہ مسائل انسانی رویوں کی صورت میں سامنے آئے ہیں، ایک ہی ادارے میں ...

👈 والدین👉

👈   والدین 👉 آج سکول میں آنے پر مجھے معلوم ہوا کہ بچے سکول نہیں آئے، بچوں کے سکول نہ آنے کی وجہ والدین ہیں. جنہوں نے اپنی بعض مجبوریوں کی وجہ سے بچوں کو وقت کی پابندی اور علم حاصل کرنے کی اہمیت کو سمجھانا ضروری نہیں سمجھا . آج میں دنیا کے کچھ ایسے عظیم والدین کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جن کی محنت اور لگن کی وجہ سے ان کی اولاد آج کامیاب شخصیت کے طور پر دنیا کے سامنے آئی ہیں . دُنیا کے سب سے بڑے اور ایماندار انویسٹر آپ کے والدین ہیں، یہ ایسے انویسٹر ہیں جو اپنے بچوں پر تین طرح کا سرمایہ خرچ کرتے ہیں !!! 1 : مال و دولت 2 : وقت (اپنی ساری عمر) 3 : اپنی جوانی/عمر (خوبصورتی، حسن و جمال، اپنی طاقت) اور یہ (والدین) ایسے انویسٹر (سرمایہ) کار ہیں کہ : اپنا وقت ، عمر ، پیسہ اور اپنی سوچ و فکر سب قربان کرتے ہیں وہ بھی بنا کسی لالچ کے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جس پر وہ انویسٹ کر رہے ہیں کیا وہ اُنہیں آگے جاکر کوئی فائدہ پہنچا پائے گا کہ نہیں، بنا کسی فکر و فائدے کے وہ اپنے بچوں پر انویسٹ کیے جاتے ہیں ، کیے جاتے ہیں اور کیے ہی جاتے ہیں مگر آخر جب وہ زندگی کی بھاگ دو...

♨ پردہ کوئی چوائس نہیں فیشن نہیں 🇵🇰۔۔۔

  اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاَللهِ وَبَرَکاتُهُ ♨ پردہ کوئی چوائس نہیں فیشن نہیں 🇵🇰 ۔۔۔ پردہ غربت چھپانے کے لیے نہیں کیا جاتا ۔۔۔ پردہ غیر استری شدہ کپڑے چھپانے کے لیے نہیں کیا جاتا۔۔۔۔۔ پردہ جم جانے کے لیے نہیں کیا جاتا۔۔۔ آدھے بال باہر نکالنے کا نام پردہ نہیں ہے۔۔۔ سر کے اوپر بڑا سا جوڑا سجا کر دیدہ زیب کرنے کا نام پردہ نہیں ہے۔۔۔۔  پردہ فن نہیں ہے ۔۔۔۔ پردہ مزاق نہیں ہے ۔۔۔۔ پردہ تفریح اور فیشن نہیں ہے۔۔۔۔۔ پینٹ شرٹ کے اوپر کترن باندھنے کا نام پردہ نہیں ہے۔۔۔ چست اور فٹنگ کے عبایا پہنے کا نام پردہ نہیں ہے۔۔۔    پردہ مسلمان عورت کو امتیازی حیثیت دینے کا نام ہے۔۔   پردہ اس حکم کا نام ہے جو اہل ایمان کی عورتوں کو دیا گیا۔ پردہ کرنا ہے تو مسلمان عورت کی طرح ہی کریں کہ جیسے پردہ کرنے کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ پردہ کوئی کھیل تماشہ نہیں کہ جب دل چاہا کیا اور جب دل چاہا اتار دیا۔   ✍ ️_ محمد طاہر فاروق    

⛷️⛷️" تربیت کیسے ممکن ہے؟"

  " تربیت کیسے ممکن ہے؟ " حضرت واصف علی واصف صاحب فرماتے ہیں " وہ دن گئے جب بچوں کو سکولوں میں "گلستان" اور "بوستان" کی کہانیاں پڑھایا کرتے تھے اور نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ بااخلاق معاشرہ پیدا ہوتا تھا اور آج جو کچھ ہو رہا ہے،ویڈیو کی کہانیوں کا اثر ہے۔ جنسی تشدد اور دہشت گردی پہلے فلموں میں دکھائی جاتی ہے اور پھر سماج میں اسے دیکھا جاتا ہے۔ جب ذہن پختہ ہو جائے تو اصلاح کا امکان کم ہو جاتا ہے"۔ آج آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں کیا ہو رہا ہے؟   قلم کار کیا لکھ رہے ہیں؟ سکرین پر کس طرح کے ناول یا کہانیوں کو ڈرامے کی صورت پیش کیا جا رہا ہے؟   سکول میں چھوٹی عمر کے بچوں کو ہی ماڈرن رقص میں لگا دیا گیا ہے جو بڑھتی عمر اور کلاس کے ساتھ ساتھ مذید جدت اختیار کر لیتا ہے اور کالج میں میوزک کنسرٹ پھر یونیورسٹی کے اینول ڈنر تک یہی سکول میں ہونے والا ماڈرن رقص مجرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یونیورسٹی میں جو کچھ میوزک کنسرٹ اور اینول ڈنر کے نام پر اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کر رہے ہیں اسے دیکھ کر آپ کو سٹیج ڈرامے اور مجرے بھی کم لگیں...

🔦 تم کیا جانو عزت تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے عطا کردے

  تم کیا جانو عزت تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے عطا کردے اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ایک بار لاہور میں قذافی سٹیڈیم میں ایک بھارتی گلوکار نے کنسرٹ کیا۔رقص و موسیقی کی محفل میں پاکستان کے نامور شخصیات کو مدعو کیا گیا۔ مہمانوں کی تواضع ہر قسم کے مشروبات سے کی گئی جبکہ پاکستانی فلمی اداکاراوُں نے رقص کر کے بھارتی گلوکار کا ساتھ دیا اور دیکھنے والوں سے خوب داد وصول کی۔اس تقریب میں پاکستان کے نامی گرامی سیاستدان، اداکار، دانشور اور بڑی بڑی شخصیات مدعو سکیورٹی کا سخت انتظام تھا، مشہور فلسفی اشفاق احمد صاحب کو بھی دعوت نامی بھیجا گیا۔ اشفاق صاحب جب قذافی سٹیڈیم پہنچے تو انہیں احساس ہوا کہ وہ دعوت نامہ ساتھ لانا بھول گئے ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی کے عملہ سے کہا کہ وہ دعوت نامہ لانا بھول گئے ہیں انہیں اندر آنے دیا جائے۔ سکیورٹی والوں نے انہیں اندر آنے نہ دیا۔ انہوں نے بہت کہا کہ وہ ملک کی مشہور شخصیت ہین مگر سکیورٹی والوں نے نہ صرف انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا بلکہ دھکے مار کر وہاں سے ہٹا دیا اور کہا کہ بابا جی یہاں ہر کوئی مشہور بنا پھرتا ہے۔ جاوُ ہمیں اپنا کام کرنے دو۔ تنگ نہ کرو۔ بقول...

👨‍🦽 اور پھر وقت بدل گیا

  اور پھر وقت بدل گیا انسان اس دنیا میں کچھ کام اپنی خواہشات کے مطابق سرانجام دیتا ہے اور کچھ کام اس انسان کی ضروریات میں شامل ہوتے ہیں جن کے بغیر انسان کی زندگی کا گزارہ ممکن نہیں. لیکن کچھ کام انسان اپنے ضمیر کو مطمن کرنے کے لیے بھی کرتا ہے جس کا مقصد کسی کا فائدہ کرکے خوشی حاصل کرنا ہوتا ہے. ایسا ہی ایک کام میں نے اپنی زندگی کے ہر دور میں جاری رکھا، میں ایک استاد بن گیا. میرا شوق بن گیا کہ میں دوسروں کو کچھ سیکھاؤ کسی کا فائدہ کروں کسی کے دل و دماغ میں زندہ رہوں . اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے میں نے اپنے آپ پر محنت کرنا شروع کر دی اور مسلسل اپنی تعلیمی اسناد اور علم میں منزلیں طے کرتا گیا. کسی بھی کام میں مہارت حاصل کرنے کے لیے استاد کی نظر شفقت بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے. میری تعلیم و تربیت میں بھی میرے استاد محترم جناب عدنان عالم صاحب کا بہت بڑا اہم کردار ہے جنہوں نے مختلف جگہوں پر میری رہنمائی فرمائی اور مجھے مذید بہتر ہونے میں میری مدد فرمائی . کسی بھی انسان کی زندگی ایک اچھے اور شفیق استاد کے بغیر نامکمل ہے، مجھے آج بھی یاد ہے کالج کے بعد میں ایک دن اپنے کالج کسی کام سے...

🥷 "یہاں میں اپنے لیے بیٹھا ہوں" ❤️

    " یہاں میں اپنے لیے بیٹھا ہوں " ❤ ️ کچھ دن پہلے ایک دکاندار اپنی دکان بند کرنے کے بعد سامنے چارپائی پر بیٹھا تھا، گزرنے والے ایک شخص نے کہا "یار یہاں بھی تو بیٹھے ہو، اس سے اچھا ہے دکان کھول کر بیٹھ جاتے شاید کوئی گاہک بھی آ جائے" ۔ یہ سن کر دکاندار نے مسکراتے ہوئے کہا "یہاں میں اپنے لیے بیٹھا ہوں۔ یہ کچھ لمحے میرے دن بھر کی تھکان دور کرتے ہیں اور میں تازہ دم ہو کر اپنے گھر واپس چلا جاتا ہوں " ❤ ️ یہ جواب انتہائی خوب صورت تھا، میں نے گھر آتے ہی اس جملے کو اپنی ڈائری میں درج کر دیا۔ ایک ان پڑھ دکاندار نفسیات کا وہ علم جانتا ہے جسے اکثر تعلیم یافتہ لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اپنے لیے وقت نکالیں تو آپ خود سے مطمئن رہتے ہیں۔ خوشیاں اور مسکراہٹیں آپ کے چہرے پر بکھری رہتی ہیں۔ پھر جو شخص اپنے آپ سے خوش ہو وہی دوسروں کو خوشی کے پل دے سکتا ہے۔ جو خود سے محبت کرے وہی دوسروں سے محبت کرنے کا ہنر جانتا ہے۔۔۔ آپ مزدور ہیں، کوئی جاب کرتے ہیں یا پھر تاجر ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو، یاد رکھیں کہ اپنے کام سے ہٹ کر اپنے لیے کچھ وقت نکال لیا کریں۔ دس من...